16 ستمبر 2026 - 17:38
عراق میں حکومت سازی کی ڈیڈ لائن قریب، پارلیمان میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا

عراق میں نئی کابینہ کی تشکیل کی مقررہ مدت ختم ہونے کے قریب پہنچنے پر پارلیمان میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ دولتِ قانون اتحاد کے وزارتی امیدواروں پر اعتماد کا ووٹ روکنے کے لیے ایک پارلیمانی و سیاسی دھڑا سرگرم ہے، جس پر سیاسی مفادات کے لیے حکومتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراقی سیاسی ذرائع نے کابینہ کی تشکیل کی مقررہ مدت قریب آنے کے ساتھ پارلیمان میں سیاسی کشیدگی میں اضافے کی خبر دی ہے۔ اس دوران ایک پارلیمانی و سیاسی دھڑا دولتِ قانون اتحاد کے وزارتی امیدواروں کے حق میں اعتماد کے ووٹ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اپنی شرائط منوائی جا سکیں اور سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلافات کا حساب چکایا جا سکے۔

دولتِ قانون اتحاد کے رکن زہیر الجلبی نے حزب تقدم کے سربراہ محمد الحلبوسی پر براہِ راست الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی امور کو معطل اور مفلوج کرنے کی کوششوں کے اصل محرک الحلبوسی ہیں۔ ان کے بقول الحلبوسی نے ایک سیاسی اتحاد تشکیل دے کر باقی ماندہ وزارتوں کے لیے دولتِ قانون اتحاد کے امیدواروں کو اعتماد کا ووٹ ملنے سے روکنے کو اپنا بنیادی مقصد بنا لیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات سیاسی فیصلوں پر غلبہ حاصل کرنے اور انہیں محدود جماعتی مفادات کے حق میں استعمال کرنے کی واضح کوشش کا نتیجہ ہیں، جس میں ملکی مفادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

الجلبی نے کہا کہ طاقت کے استعمال اور سیاسی کشیدگی پیدا کرنے کی پالیسی نے سیاسی عمل کو خطرناک مرحلے تک پہنچا دیا ہے، یہاں تک کہ خالی وزارتوں کا معاملہ اس وقت تک حتمی شکل اختیار کرتا دکھائی نہیں دیتا جب تک انتظامی اداروں کے استحکام کو متاثر کرنے والا یہ رویہ جاری رہتا ہے۔

دولتِ قانون اتحاد کے سابق رکن پارلیمان رسول راضی نے انکشاف کیا کہ بعض افراد نے مل کر اس اتحاد کے وزرا کی منظوری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 30 ستمبر کی طے شدہ ڈیڈ لائن سے پہلے کابینہ کی تشکیل مکمل نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق موجودہ بحران ان سابقہ مواقف کا تسلسل ہے جن میں اتحاد کے سربراہ نوری المالکی کی نامزدگی کی مخالفت کی گئی تھی اور اب یہی مخالفت ان کی فہرست میں شامل وزارتی امیدواروں کو کابینہ میں شامل ہونے سے روکنے تک پہنچ گئی ہے۔

راضی نے وضاحت کی کہ الحلبوسی سے وابستہ گروہوں نے دیگر فریقوں، جن میں عصائب، حکمت اور کردستان کی محب وطن یونین بھی شامل ہیں، کے تعاون سے دولتِ قانون اتحاد کے امیدواروں پر اعتماد کے ووٹ کی مخالفت کی قیادت کی اور طے پانے والے معاہدوں کو ناکام بنا دیا۔

انہوں نے بتایا کہ نوری المالکی نے بحران پر قابو پانے اور سیاسی عمل کو روکنے کی کوششوں کو ختم کرنے کے لیے مختلف سیاسی گروہوں کے رہنماؤں کے ساتھ وسیع مذاکرات کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان اختلافات کے درمیان عراقی سیاسی عمل ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سیاسی عمل کو روکنے کی کوشش کرنے والے فریقوں کے سامنے ایک بڑا امتحان ہے۔ دولتِ قانون اتحاد اپنے وزارتی امیدواروں کے حوالے سے اپنے قانونی اور پارلیمانی حق پر اصرار کر رہا ہے، جبکہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے اور بائیکاٹ و عدم شرکت کی پالیسی پر انحصار کرنے والے فریقوں کو اس حکمت عملی کا الٹا نتیجہ بھی مل سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ صورت حال اس وقت مزید تبدیل ہو سکتی ہے جب متاثرہ فریق اکثریتی حکومت کی تشکیل کا راستہ اختیار کریں اور ان سیاسی چالوں کو بے نقاب کریں جن کے ذریعے عوامی مفادات کو بعض رہنماؤں کے ذاتی اور محدود سیاسی مفادات کے لیے قربان کیا جا رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha